ابنا: پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے میں دو افسران سمیت بیس اہلکاروں کی شہادت پراحتجاجاً نیٹو کی افغانستان کے لیے سپلائی معطل کی ہے۔ نیٹو کے حملے کے بعد مہمند ایجنسی کے لوگوں میں شدید اشتعال پھیل گیا جبکہ دوسری جانب خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے احتجاجاً طورخم کے راستے نیٹو کی سپلائی بند کر دی۔ خیبر ایجنسی کے علاقے تختہ بیگ اور بھگیاڑی سے پجاس نیٹو کنٹینروں کو واپس بھجوا دیا گیا۔ اس راستے سے روزانہ تقریبا دو سو نیٹو کنٹینر افغانستان جاتے ہیں۔ قبل ازیں مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے بائیزئی میں سرحدی پوسٹ پر نیٹو ہیلی کاپٹرز کی بمباری کے نتیجے میں بیس سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ مہمند ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز غلنئی سے پچپن کلو میٹر شمال مغرب کی جانب بائیزئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی سرحدی پوسٹ سلالہ پر جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دو نیٹو طیاروں نے بمباری کر دی جس کے نتیجے میں دو افسران سمیت بیس سکیورٹی اہلکار شہید اورسات زخمی ہو گئے۔ حملے کی اطلاع پر پاک فوج کے ہیلی کاپٹر لاشوں اور زخمیوں کو لینے علاقے میں پہنچ گئے۔ ادھر امریکا میں پاکستانی سفارتخانے نے واشنگٹن میں امریکی دفتر خارجہ سے پاکستانی اہلکاروں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے۔
...........
/169